Tuesday, February 28, 2012

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی


افغانستان میں قرآن پاک جلایا جاتا ہے ہماری قوم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، ڈراؤن حملوں میں معصوم جانیں جاتی ہیں ہمیں کوئی فکر نہیں، اک طرف قتل و غارت کا بازار گرم مگر ہم خاموش تماشائی، امریکہ اور باقی طاغوتی قوتیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں ہمارے زہنوں پر کرکٹ کا بھوت سوار، قرآن جل رہا ہے ہمارے حکمران اپنے خوش آمدیوں کے ساتھ نغمہ سرائی اور شراب و شباب کی محفلوں میں دھت دشمن ازلی کو خوش کرنے میں اندھا دھند پیسے اڑا رھے ہیں، اور غریبوں اور شہیدوں کے مزاروں اور آرزؤں پر دھما چوکڑی مچا رہے ہیں مگر ہماری غیرت خاموش، بلوچستان کا واقعہ ہمیں روز روز جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہمارے مردہ ضمیر خاموش....!!!

کون کون سی نا انصافیوں کو میں تحریر کروں جو اس خواب غفلت میں ڈوبی قوم کو جگا سکیں.....!!!
آج مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ ہم نے صرف کرکٹ کو ہی اپنا دین و ایمان کیوں بنا لیا ہے.....!!!
آج انگلینڈ سے پاکستان کرکٹ میچ ہارتا ہے تو فیس بک آنسؤں سے تر ہو جاتی ہے...گراؤنڈ/سٹیڈیم میں عورتوں اور نوجوانوں کے آنسوں بہتے ہیں ـ کاش اگر ہم ایسا ہی جذبہ ملت اسلامیہ کی بقا اور ملک و ملت کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے بھی رکھتے...... لیکن کاش یہی ایک تلخ حقیقت ہے....جو مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کرتی ہے....اور میری نظریں اس قوم کی قسمت کا عروج زوال کہیں اور دیکھ رہی ہیں ـ اقبال کے شاہین کرگس کی راہ پر گامزن ہو گۓ ـ وہ قوم جو اہنی داستانیں تلوار کی نوک سے لکھتی تھی آج گیند اور بیٹ سے لکھنے کی کوشش کر رہی ہے....بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی....لوٹ آؤ کہ اب بھی وقت ہے.........

تحریر غم: وقاص احمد مغل

0 comments:

Post a Comment

Deal of the week

$1.99 Domains* at GoDaddy.com
free counters
Follow this site
Twitter Delicious Facebook Digg Stumbleupon Favorites More

 
Design by Usama | Blogger Theme by Humari News